پیر روحان کا مرید (پروفیسر ڈاکٹر پرویز مھجور)

peer rohan ka moreed professor doctor parvez mahjoor

پیر روحان کا مرید (پروفیسر ڈاکٹر پرویز مھجور)

تحریر: شاہ سعود طورو

ضلع نوشہرہ میں خویشگی زمانہ قدیم سے علم و ادب کا مرکز رہا ہے۔ جدید دور میں بھی بعض معروف ادیب اور شاعر خویشگی سے تعلق رکھتےہیں۔ جن میں ڈاکٹر عبداللہ جان عابد چئرمین پاکستانی زبانیں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد، عبداللہ قانت، غالب فریاد ترین، ہما یون ہمدرد وغیرہ شامل ہیں۔

وہ ۱۴ جنوری ۱۹۵۲ کو پیدا ہوے۔ ابتدائ تعلیم اپنے گاوؑں مین حاصل کیا اور اعلیٰ تعلیم کی ڈگری پشاوریونیورسٹی سے حاصل کی۔ وہ پہلے سکول ٹیچر تھے پھر پشتو اکیڈمی پشاور میں ۱۴ سال تک جونیئر ریسرچ آفیسر رہے۔ بعد میں وہ ایسوسی ایٹ پروفیسر مقرر ہوےؑ اور ۲۰۱۱ میں پروفیسر کا عہدہ سنبھالا۔ تقریبا ۲۰ پی ایچ ڈی اور ایم فل سکالرز کے سپروائزر رہے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ باچا خان یونیورسٹی سے وابستہ تھے۔

معروف شاعر اورمحقق ادیب جناب پروفیسر مھجور استاد کا درجہ رکھتے تھے۔ بنیادی طور پر معلم تھے۔ پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی سے منسلک ہوےؑ تو تحقیق و تنقید کے شعبے میں انھوں نے نمایاں خدمات انجام دیئے باالخصوص با یزید انصاری المعروف پیرروحان اور انکے مکتب فکر کے حوالے سے جناب پروفیسر مھجور صاحب نے تحقیق کا حق ادا کر دیا ہے۔ انھوں نے اکادمي آدبیآت پاکستان اسلام آباد کے زیراہتمام رحمان بابا کی شخصیت اور فن پر اردو میں ایک مستند کتاب لکھی ہے جو پاکستان کے معمار ادب کی اہم کڑی ہے۔

رحمان بابا جو پشتو کے کلاسک شاعر ہیں باالعموم صوفی شاعر کہلاتے ہیں جناب پروفیسر مھجور صاحب نے دیوان رحمان بابا کے حوالے سے تصوف اور صوفیاےؑ کرام کی موضوع پر جو بحث کی ہے وہ انتہائ قابل قدر اور معلومات افزا مانی جاتی ہے۔ اکاد مي آدبیآت پاکستان نے اس کتاب کی نضرثانی کی ذمہ داری معروف شاعر و ادیب جناب مشتاق الرحمٰن شفق کو سونپی تھی۔ ان کے مطابق محترم پروفیسر مھجور نے دوسرے فارسی کے کلاسک شعراؑ سے جو موازنہ کیا ہے وہ انتہا ئ قابل قدر اسلئے ہے کے اس سے قبل محقق ادیب اور پشتو کے ممتاز نقاد جناب دوست محمد خان کامل نے رحمان بابا کے متعلق جو کتاب لکھی تھی اس سے ایک تا ثریہ بھی ابھرتا ہے گویا رحمان بابا نے فارسی کے لسان الغیب شاعر حافظ شیرازی کی خوشہ چینی کی ہے۔

  کامل صاحب نے بالخصوس اس غزل کی نشاندھی کی ہے جس میں درویشوں کی صفات بیان کی گئ ہیں۔ جناب پروفیسر مھجور صاحب نے اسی مضوع پر سعدی شیرازی کا حوالہ دیا ہے انھوں نے حافظ شیرازی سے قبل اسی زمین اور اسی موضوع پر ایک غزل کہی تھی۔ اس میں تو کوئ شعبہ نہیں ہے کہ رحمان بابا نے دیگر اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ فارسی ادیبات کا مطالعہ کیا ہوگا لیکن رحمان بابا کا جو اسلوب بیان ہے وہ پشتو کا کلاسک شعراؑ تو کیا حافظ شیرازی کے کلام سے بھی زیادہ متاثرکن ہے۔ در حقیقت زبان کوی بھی ہو لیکن جو شعراؑ عقیدہ توحید کے ترجمان ہوتے ہیں ان کے خیالات و احساسات میں یکسانیت پائ جاتی ہے۔

جناب پروفیسر مھجور صاحب نے اپنی علمی بصیرت سے ہر نقطہ واضح کر دیا ہے کہ صوفیاےؑ کرام خواں وہ شاہ عبدالطیف بھٹائ، ہو سچل سرمست ہو، بھلے شاہ ہو، حافظ شیرازی، سعدی شیرازی ہو یا رحمان بابا سارے شمع توحید کے پروانے ہیں اور اس شمع کے ارد گرد طواف کرتے محسوس ہوتے ہیں۔

صاحب طرزادیب اور شاعر جناب اسرار د طورو نے اپنی کتاب ُد کابل سفرُ میں اپنے ہمسفر دوستوں کا مختصر تزکرہ کیا ہے ان میں انھون نے بطور خاص محترم پروفیسر صاحب کی عبادت اور پرہیزگاری کا عمدہ الفاظ میں ذکر کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین۔

Mahjoor Sb

اس آرٹیکل میں تمام خیالات اور راۓ مصنف کی اپنی ہے۔ راٸٹرزکلب کا مصنف کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

The Author is PhD Scholar in Sociology of Family and member of Writers Club Pakistan management committee. His detailed profile is available in Writers Directory.

پیر روحان کا مرید (پروفیسر ڈاکٹر پرویز مھجور)

10 thoughts on “پیر روحان کا مرید (پروفیسر ڈاکٹر پرویز مھجور)

  1. Ashrafali

    Dr. Sab se mere mulaqat mem ry shafaq sab ke sat pushto academy me hoi. 15 ment ke mulaqat d me Dr mahjoor sab ke baton se adabi here julak rahe the. Un deno Dr Raj Wali Shah pushto imla per kam kar rahe the. Ise mozo par majoor sab ke ilme w adbi malumat ka andaza howa. Nihayat tos malomat rakthe the. Allah Pak se dua he ke Dr sab ke darajat buland farmaen. Ameen

    Reply
  2. Syed Rashid Ali

    Good attempt, continue it,, you can,,
    Prof Dr. Mahjoor saheb was very nice and down to earth person. I observed, his respect for my father “Israr D Toru” which was amazing.
    Life is perishable but writing remains for longer. Prof saheb will be remembered through his writings!
    May his soul rest in peace!

    Reply
  3. Pingback: Politics: Theoretical Contribution of Thinkers | Writers Club Pakistan

  4. Pingback: Child Sexual Abuse, A Case Study By Shah Saud Toru

  5. Pingback: Political History of Pakistan - All Historical Political Events of Pakistan

  6. Pingback: STRAIN THEORY of Robert King Merton - Writers Club Pakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *